19 اشعار

ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں

Ham par jafā se tark-e vafā kā gumāñ nahīñ

ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں

«ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیںاک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں

کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کاپرسش ہے اور پاے سخن درمیاں نہیں

ہم کو ستم عزیز ستم گر کو ہم عزیزنا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں

بوسہ نہیں نہ دیجیے دشنام ہی سہیآخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں

ہر چند جاں گدازی قہر و عتاب ہےہر چند پشت گرمی تاب و تواں نہیں

جاں مطرب ترانۂ ہل من مزید ہےلب پردہ سنج زمزمۂ الاماں نہیں

خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیمدل میں چھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں

ہے ننگ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہوہے عار دل نفس اگر آذر فشاں نہیں

نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خرابسو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں

کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میںگویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں

پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کیروح القدس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں

جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھیغالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں

جس جا کہ پائے سیل بلا درمیاں نہیںدیوانگاں کو واں ہوس خانماں نہیں

گل غنچگی میں غرقۂ دریائے رنگ ہےاے آگہی فریب تماشا کہاں نہیں

کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبولبرگ حنا مگر مژۂ خوں فشاں نہیں

ہر رنگ گردش آئنہ ایجاد درد ہےاشک سحاب جز بہ وداع خزاں نہیں

جز عجز کیا کروں بہ تمنائے بے خودیطاقت حریف سختیٔ خواب گراں نہیں

عبرت سے پوچھ درد پریشانیٔ نگاہیہ گرد وہم جز بسر امتحاں نہیں

برق بجان حوصلہ آتش فگن اسدؔاے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں

— مرزا غالب