10 اشعار

حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز

Harīf-e matlab-e mushkil nahīñ fusūñ-e niyāz

حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز

«حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 37 سیکنڈ ہے۔

حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیازدعا قبول ہو یا رب کہ عمر خضر دراز

نہ ہو بہ ہرزہ بیاباں نورد وہم وجودہنوز تیرے تصور میں ہے نشیب و فراز

وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاںکہ دیجے آئنۂ انتظار کو پرداز

ہر ایک ذرۂ عاشق ہے آفتاب پرستگئی نہ خاک ہوئے پر ہواۓ جلوۂ ناز

نہ پوچھ وسعت مے خانۂ جنوں غالبؔجہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز

فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھنگاہ عکس فروش و خیال آئنہ ساز

ز بسکہ جلوۂ صییاد حیرت آرا ہےاڑی ہے صفحۂ خاطر سے صورت پرواز

ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہےکہ شیشہ نازک و صہبائے آبگینہ گداز

اسدؔ سے ترک وفا کا گماں وہ معنی ہےکہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز

ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائینگاہ فتنہ خرام و در دو عالم باز

— مرزا غالب