6 اشعار

عشق تاثیر سے نومید نہیں

Ishq taaseer se naumeed nahin

عشق تاثیر سے نومید نہیں

«عشق تاثیر سے نومید نہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

عشق تاثیر سے نومید نہیںجاں سپاری شجر بید نہیں

سلطنت دست بدست آئی ہےجام مے خاتم جمشید نہیں

ہے تجلی تری سامان وجودذرہ بے پرتو خورشید نہیں

راز معشوق نہ رسوا ہو جائےورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں

گردش رنگ طرب سے ڈر ہےغم محرومئ جاوید نہیں

کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگہم کو جینے کی بھی امید نہیں

— مرزا غالب