10 اشعار

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

Ishq mujh ko nahin wahshat hi sahi

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

«عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے ارباب خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت تری شہرت ہی سہی

قطع کیجے نہ تعلق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

میرے ہونے میں ہے کیا رسوائیاے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنےغیر کو تجھ سے محبت ہی سہی

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہوآگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

عمر ہرچند کہ ہے برق خرامدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیںنہ سہی عشق مصیبت ہی سہی

کچھ تو دے اے فلک ناانصافآہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔگر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں