10 اشعار

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

Ishrat-e-qatra hai darya mein fana ho jana

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

«عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تماممٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا

اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہاس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا

ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیالہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا

ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا

گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوسکیوں ہے گرد رہ جولان صبا ہو جانا

بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔچشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقلدیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا

— مرزا غالب