6 اشعار

جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع

Jaada-e-rah-e-khur ko waqt-e-shaam hai taar-e-shua'a

جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع

«جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاعچرخ وا کرتا ہے ماہ نو سے آغوش وداع

شمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہنشعلۂ آواز خوباں پر بہ ہنگام سماع

جوں پر طاؤس جوہر تختہ مشق رنگ ہےبسکہ ہے وہ قبلۂ آئینہ محو اختراع

رنجش حیرت سرشتاں سینہ صافی پیشکشجوہر آئینہ ہے یاں گرد میدان نزاع

چار سوئے دہر میں بازار غفلت گرم ہےعقل کے نقصاں سے اٹھتا ہے خیال انتفاع

آشنا غالبؔ نہیں ہیں درد دل کے آشناورنہ کس کو میرے افسانے کی تاب استماع

— مرزا غالب