16 اشعار

جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی

Jab tak dahan-e-zakhm na paida kare koi

جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی

«جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئیمشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی

عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بہ سرکب تک خیال طرۂ لیلا کرے کوئی

افسردگی نہیں طرب انشائے التفاتہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی

رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھےآخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی

چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئیکیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی

لخت جگر سے ہے رگ ہر خار شاخ گلتا چند باغبانی صحرا کرے کوئی

ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوزتو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

ہر سنگ و خشت ہے صدف گوہر شکستنقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی

سر بر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عمرفرصت کہاں کہ تیری تمنا کرے کوئی

ہے وحشت طبیعت ایجاد یاس خیزیہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی

بیکاری جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغلجب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی

حسن فروغ شمع سخن دور ہے اسدؔپہلے دل گداختہ پیدا کرے کوئی

وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئیہستی کو لفظ معنی عنقا کرے کوئی

جو کچھ ہے محو شوخی ابروئے یار ہےآنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی

عرض سرشک پر ہے فضاۓ زمانہ تنگصحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی

وہ شوخ اپنے حسن پہ مغرور ہے اسدؔدکھلا کے اس کو آئنہ توڑا کرے کوئی

— مرزا غالب