7 اشعار

جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا

Jaur se baaz aaye par baaz aayen kya

جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا

«جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

جور سے باز آئے پر باز آئیں کیاکہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاوجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا

ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھیا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا

موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائےآستان یار سے اٹھ جائیں کیا

عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہمر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

— مرزا غالب