11 اشعار

جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے

Jis bazm mein tu naaz se guftaar mein aave

جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے

«جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبد صورت دیوار میں آوے

سایہ کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے

تب ناز گراں مایگی اشک بجا ہےجب لخت جگر دیدۂ خوں بار میں آوے

دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گرکچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے

اس چشم فسوں گر کا اگر پائے اشارہطوطی کی طرح آئینہ گفتار میں آوے

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رباک آبلہ پا وادی پر خار میں آوے

مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازکآغوش خم حلقۂ زنار میں آوے

غارت گر ناموس نہ ہو گر ہوس زرکیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے

تب چاک گریباں کا مزا ہے دل نالاںجب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے

آتشکدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سےاے واے اگر معرض اظہار میں آوے

گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیےجو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے

— مرزا غالب