10 اشعار

جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے

Jis ja naseem-e-shaana-kash-e-zulf-e-yaar hai

جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے

«جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہےنافہ دماغ آہوئے دشت تتار ہے

کس کا سراغ جلوہ ہے حیرت کو اے خداآئینہ فرش شش جہت انتظار ہے

ہے ذرہ ذرہ تنگئ جا سے غبار شوقگر دام یہ ہے وسعت صحرا شکار ہے

دل مدعی و دیدہ بنا مدعا علیہنظارہ کا مقدمہ پھر رو بکار ہے

چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگ گل پر آباے عندلیب وقت وداع بہار ہے

پچ آ پڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھےوہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے

بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کرہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے

اے عندلیب یک کف خس بہر آشیاںطوفان آمد آمد فصل بہار ہے

دل مت گنوا خبر نہ سہی سیر ہی سہیاے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے

غفلت کفیل عمر و اسدؔ ضامن نشاطاے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے

— مرزا غالب