7 اشعار

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی

Jis zakhm ki ho sakti ho tadbeer-e-rafu ki

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی

«جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیلکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی

اچھا ہے سر انگشت حنائی کا تصوردل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی

کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے حوصلگی سےیاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی

دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کوخنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی

صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔحسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی

گو زندگی زاہد بے چارہ عبث ہےاتنا ہے کہ رہتی تو ہے تدبیر وضو کی

اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پربخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی

— مرزا غالب