9 اشعار

جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی

Junoon ki dastgiri kis se ho gar ho na uryaani

جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی

«جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانیگریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر

بہ رنگ کاغذ آتش زدہ نیرنگ بیتابیہزار آئینہ دل باندھے ہے بال یک تپیدن پر

فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہےمتاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر

ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہےشعاع مہر سے تہمت نگہ کی چشم روزن پر

فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کافروغ طالع خاشاک ہے موقوف گلخن پر

اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہےکہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر

فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پرکہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر

تکلف خار خار التماس بے قراری ہےکہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشت سوزن پر

یہ کیا وحشت ہے اے دیوانہ پیش از مرگ واویلارکھی بیجا بنائے خانۂ زنجیر شیون پر

— مرزا غالب