3 اشعار

جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی

Junoon tuhmat-kash-e-taskeen na ho gar shadmani ki

جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی

«جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کینمک پاش خراش دل ہے لذت زندگانی کی

کشاکش‌ ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعی آزادیہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی

پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہےشرار سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی

— مرزا غالب