14 اشعار

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار

Juz Qais aur koi na aaya bar-roo-e-kaar

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار

«جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کارصحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا

آشفتگی نے نقش سویدا کیا درستظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہجب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوزلیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگیمیں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔسرگشتۂ خمار رسوم و قیود تھا

عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھاجوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا

بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوقہنگامہ گرم حیرت بود و نبود تھا

عالم طلسم شہر خموشی ہے سربسریا میں غریب کشور گفت و شنود تھا

تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھامیرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا

تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میںحیرت متاع عالم نقصان و سود تھا

گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلکمیں پائمال غمزۂ چشم کبود تھا

پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال دل مگرکس کو دماغ منت گفت و شنود تھا

خور شبنم آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔسر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا

— مرزا غالب