4 اشعار

کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں

Kaaba mein ja raha tu na do ta'ana kya kahein

کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں

«کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیںبھولا ہوں حق صحبت اہل کنشت کو

طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگدوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسم ثواب سےٹیڑھا لگا ہے قط قلم سرنوشت کو

غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھےخرمن جلے اگر نہ ملخ کھائے کشت کو

— مرزا غالب