7 اشعار

کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے

Kargah-e-hasti mein lala-e-dagh-saman hai

کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے

«کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہےبرق خرمن راحت خون گرم دہقاں ہے

غنچہ تا شگفتن ہا برگ عافیت معلومباوجود دل جمعی خواب گل پریشاں ہے

ہم سے رنج بیتابی کس طرح اٹھایا جائےداغ پشت دست عجز شعلہ خس بہ دنداں ہے

عشق کے تغافل سے ہرزہ گرد ہے عالمروئے شش جہت آفاق پشت چشم زنداں ہے

حیرت تپیدن ہا خوں بہائے دیدن ہارنگ گل کے پردے میں آئینہ پر افشاں ہے

وحشت انجمن ہے گل دیکھ لالے کا عالممثل دود مجمر کے داغ بال افشاں ہے

اے کرم نہ ہو غافل ورنہ ہے اسد بیدلبے گھر صدف گویا پشت چشم نیساں ہے

— مرزا غالب