9 اشعار

کب وہ سنتا ہے کہانی میری

Kab wo sunta hai kahani meri

کب وہ سنتا ہے کہانی میری

«کب وہ سنتا ہے کہانی میری» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کب وہ سنتا ہے کہانی میریاور پھر وہ بھی زبانی میری

خلش غمزۂ خوں ریز نہ پوچھدیکھ خونابہ فشانی میری

کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یارمگر آشفتہ بیانی میری

ہوں زخود رفتۂ بیدائے خیالبھول جانا ہے نشانی میری

متقابل ہے مقابل میرارک گیا دیکھ روانی میری

قدر سنگ سر رہ رکھتا ہوںسخت ارزاں ہے گرانی میری

گرد باد رہ بیتابی ہوںصرصر شوق ہے بانی میری

دہن اس کا جو نہ معلوم ہواکھل گئی ہیچ مدانی میری

کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔننگ پیری ہے جوانی میری

— مرزا غالب