8 اشعار

کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے

Kabhi neki bhi us ke ji mein gar aa jae hai mujh se

کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے

«کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سےجفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مجھ سے

خدایا جذبۂ دل کی مگر تاثیر الٹی ہےکہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے

وہ بد خو اور میری داستان عشق طولانیعبارت مختصر قاصد بھی گھبرا جائے ہے مجھ سے

ادھر وہ بد گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہےنہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے

سنبھلنے دے مجھے اے نا امیدی کیا قیامت ہےکہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے

تکلف بر طرف نظارگی میں بھی سہی لیکنوہ دیکھا جائے کب یہ ظلم دیکھا جائے ہے مجھ سے

ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمینہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے

قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔوہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے

— مرزا غالب