16 اشعار

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

Kehte ho na denge hum dil agar pada paya

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

«کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 49 سیکنڈ ہے۔

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلومآہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا

سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاریحسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا

حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنیہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا

شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا ربہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کےایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا

خاک بازی امید کارخانۂ طفلییاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا

کیوں نہ وحشت غالب باج خواہ تسکیں ہوکشتۂ تغافل کو خصم خوں بہا پایا

فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پاعضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا

شب نظارہ پرور تھا خواب میں خیال اس کاصبح موجۂ گل کو نقش بوریا پایا

جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہےزخم تیغ قاتل کو طرفہ دل کشا پایا

ہے مکیں کی پا داری نام صاحب خانہہم سے تیرے کوچے نے نقش مدعا پایا

نے اسدؔ جفا سائل نے ستم جنوں مائلتجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا

— مرزا غالب