11 اشعار

کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے

Kahoon jo haal to kehte ho mudda'a kahiye

کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے

«کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیےتمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے

نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیںمجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے

وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوےنگاہ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے

نہیں ذریعۂ راحت جراحت پیکاںوہ زخم تیغ ہے جس کو کہ دل کشا کہیے

جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیےجو ناسزا کہے اس کو نہ ناسزا کہیے

کہیں حقیقت جاں کاہیٔ مرض لکھیےکہیں مصیبت ناسازیٔ دوا کہیے

کبھی شکایت رنج گراں نشیں کیجےکبھی حکایت صبر گریز پا کہیے

رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجےکٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے

نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہےروانیٔ روش و مستیٔ ادا کہیے

نہیں بہار کو فرصت نہ ہو بہار تو ہےطراوت چمن و خوبیٔ ہوا کہیے

سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔخدا سے کیا ستم و جور ناخدا کہیے

— مرزا غالب