9 اشعار

کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے

Kehte to ho tum sab ke but-e-ghaliya-mo aaye

کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے

«کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئےیک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے

ہوں کشمکش نزع میں ہاں جذب محبتکچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے

ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالمآنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے

ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرینہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے

جلاد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتےہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے

ہاں اہل طلب کون سنے طعنۂ نایافتدیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے

اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیںاس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے

کی ہم نفسوں نے اثر گریہ میں تقریراچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے

اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے

— مرزا غالب