11 اشعار

کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں

Kal ke liye kar aaj na khast-e-sharab mein

کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں

«کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میںیہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسندگستاخی فرشتہ ہماری جناب میں

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماعگر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمےنے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہےجتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں

اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہےحیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحریاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں

شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہیہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں

آرایش جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیش نظر ہے آئنہ دایم نقاب میں

ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہودہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں

غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوستمشغول حق ہوں بندگی بو تراب میں

— مرزا غالب