10 اشعار

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور

Lazim tha ke dekho mera rasta koi din aur

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور

«لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اورتنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور

مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گاہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور

آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤںمانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گےکیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارفکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور

تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کےکرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور

مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائیبچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور

گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوشکرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔقسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور

— مرزا غالب