7 اشعار

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا

Mahram nahin hai tu hi nawa-ha-e-raaz ka

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا

«محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کایاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا

رنگ شکستہ صبح بہار نظارہ ہےیہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا

تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیزمیں اور دکھ تری مژہ ہائے دراز کا

صرفہ ہے ضبط آہ میں میرا وگرنہ میںطعمہ ہوں ایک ہی نفس جاں گداز کا

ہیں بسکہ جوش بادہ سے شیشے اچھل رہےہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا

کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوزناخن پہ قرض اس گرہ نیم باز کا

تاراج کاوش غم ہجراں ہوا اسدؔسینہ کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا

— مرزا غالب