4 اشعار

میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں

Main unhein chhedoon aur kuch na kahein

میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں

«میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 24 سیکنڈ ہے۔

میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیںچل نکلتے جو مے پیے ہوتے

قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہوکاش کے تم مرے لیے ہوتے

میری قسمت میں غم گر اتنا تھادل بھی یارب کئی دیے ہوتے

آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔکوئی دن اور بھی جیے ہوتے

— مرزا غالب