9 اشعار

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی

Manzoor thi yeh shakal tajalli ko noor ki

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی

«منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کیقسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی

اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیںپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی

واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکوکیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی

لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھاگویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنجاڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیںکعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جوابآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی

گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدرکی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی

غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی

— مرزا غالب