9 اشعار

مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے

Masjid ke zer-e-saya-e-kharabat chahiye

مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے

«مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیےبھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پرآخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

دے داد اے فلک دل حسرت پرست کیہاں کچھ نہ کچھ تلافئ مافات چاہیے

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوریتقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کواک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

نشوونما ہے اصل سے غالبؔ فروع کوخاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے

ہے رنگ لالہ و گل و نسریں جدا جداہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے

سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودیرو سوئے قبلہ وقت مناجات چاہیے

یعنی بہ حسب گردش پیمانۂ صفاتعارف ہمیشہ مست مے ذات چاہیے

— مرزا غالب