8 اشعار

مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں

Mat mardamak-e-dida mein samjho yeh nigahein

مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں

«مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیںہیں جمع سویداۓ دل چشم میں آہیں

کس دل پہ ہے عزم صف مژگان خود آراآئینے کے پایاب سے اتری ہیں سپاہیں

دیر و حرم آئینۂ تکرار تمناواماندگی شوق تراشے ہے پناہیں

جوں مردمک چشم سے ہوں جمع نگاہیںخوابیدہ بہ حیرت کدۂ داغ ہیں آہیں

پھر حلقۂ کاکل میں پڑیں دید کی راہیںجوں دود فراہم ہوئیں روزن میں نگاہیں

پایا سر ہر ذرہ جگر گوشۂ وحشتہیں داغ سے معمور شقائق کی کلاہیں

یہ مطلع اسدؔ جوہر افسون سخن ہوگر عرض تپاک جگر سوختہ چاہیں

حیرت کش یک جلوۂ معنی ہیں نگاہیںکھینچوں ہوں سویداۓ دل چشم سے آہیں

— مرزا غالب