7 اشعار

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں

Mazey jahan ke apni nazar mein khak nahin

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں

«مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںسواے خون جگر سو جگر میں خاک نہیں

مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاےوگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں

یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہےکہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں

بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتااثر مرے نفس بے اثر میں خاک نہیں

خیال جلوۂ گل سے خراب ہیں میکششراب خانہ کے دیوار و در میں خاک نہیں

ہوا ہوں عشق کی غارتگری سے شرمندہسواے حسرت تعمیر گھر میں خاک نہیں

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔکھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں

— مرزا غالب