16 اشعار

مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہے

Meri hasti faza-e-hairat-aabad-e-tamanna hai

مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہے

«مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہےجسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے

خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کو کوئی موسم ہووہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے

وفائے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدماثر فریاد دل ‌ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے

نہ لائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدیکف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے

نہ سووے آبلوں میں گر سرشک دیدۂ نم سےبہ جولاں گاۂ نومیدی نگاۂ عاجزاں پا ہے

بہ سختی ہاۓ قید زندگی معلوم آزادیشرر بھی صید دام رشتۂ رگ‌ ہاۓ خارا ہے

تغافل مشربی سے ناتمامی بسکہ پیدا ہےنگاہ ناز چشم یار میں زنار مینا ہے

تصرف وحشیوں میں ہے تصور ہاۓ مجنوں کاسواد چشم آہو عکس خال روئے لیلا ہے

محبت طرز پیوند نہال دوستی جانےدویدن ریشہ ساں مفت رگ خواب زلیخا ہے

کیا یک سر گداز دل نیاز جوشش حسرتسویدا نسخۂ تہ بندی داغ تمنا ہے

ہجوم ریزش خوں کے سبب رنگ اڑ نہیں سکتاحناۓ پنجۂ صیاد مرغ رشتہ بر پا ہے

اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہےکہ رگ سے سنگ میں تخم شرر کا ریشہ پیدا ہے

نہاں ہے گوہر مقصود جیب خود شناسی میںکہ یاں غواص ہے تمثال اور آئینہ دریا ہے

عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤکہ یاں افسون خواب افسانۂ خواب زلیخا ہے

تصور بہر تسکین تپیدن ہاۓ طفل دلبہ باغ رنگ ‌ہاۓ رفتہ گل چین تماشا ہے

بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانیکہ ناز جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے

— مرزا غالب