17 اشعار

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

Muddat hui hai yaar ko mehman kiye hue

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

«مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےجوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے

کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کوعرصہ ہوا ہے دعوت مژگاں کیے ہوئے

پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دمبرسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے

پھر گرم نالہ ہائے شرربار ہے نفسمدت ہوئی ہے سیر چراغاں کیے ہوئے

پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشقسامان صدہزار نمکداں کیے ہوئے

پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دلساز چمن طرازی داماں کیے ہوئے

باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیبنظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے

دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہےپندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے

پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلبعرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے

دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیالصد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے

پھر چاہتا ہوں نامۂ دل دار کھولناجاں نذر دل فریبی عنواں کیے ہوئے

مانگے ہے پھر کسی کو لب بام پر ہوسزلف سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے

چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزوسرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے

اک نو بہار ناز کو تاکے ہے پھر نگاہچہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیںسر زیر بار منت درباں کیے ہوئے

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دنبیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سےبیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں