13 اشعار

ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں

Milti hai khoo-e-yaar se naar-e-iltehaab mein

ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں

«ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میںکافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں

کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان خراب میںشب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھرآنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوںمیں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جامساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

جو منکر وفا ہو فریب اس پہ کیا چلےکیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں

میں مضطرب ہوں وصل میں خوف رقیب سےڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں

میں اور حظ وصل خدا ساز بات ہےجاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں

ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کےہے اک شکن پڑی ہوئی طرف نقاب میں

لاکھوں لگاؤ ایک چرانا نگاہ کالاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں

وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائےجس نالہ سے شگاف پڑے آفتاب میں

وہ سحر مدعا طلبی میں نہ کام آئےجس سحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں

غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھیپیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں

— مرزا غالب