7 اشعار

نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا

Na hogaa yak bayaabaa.n-maa.ndagii se zauq kam meraa

نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا

«نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میراحباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہےکہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

رہ خوابیدہ تھی گردن کش یک درس آگاہیزمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا

سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوںپرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا

ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہےدہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا

نہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہیمیں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا

اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہےبرنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا

— مرزا غالب