7 اشعار

نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی

Na hu.ii gar mere marne se tasallii na sahī

نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی

«نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہیامتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی

خار خار الم حسرت دیدار تو ہےشوق گلچین گلستان تسلی نہ سہی

مے پرستاں خم مے منہ سے لگائے ہی بنےایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی

نفس قیس کہ ہے چشم و چراغ صحراگر نہیں شمع سیہ خانۂ لیلی نہ سہی

ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونقنوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواگر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی

عشرت صحبت خوباں ہی غنیمت سمجھونہ ہوئی غالبؔ اگر عمر طبیعی نہ سہی

— مرزا غالب