8 اشعار

نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے

Na lewe gar khas-e-jauhar-e-taraawat sabza-e-khat se

نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے

«نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سےلگائے خانۂ آئینہ میں روئے نگار آتش

فروغ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشقنہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش

شرر ہے رنگ بعد اظہار تاب جلوۂ تمکیںکرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش

پناوے بے گداز موم ربط پیکر آرائینکالے کیا نہال شمع بے تخم شرار آتش

خیال دود تھا سر جوش سودائے غلط فہمیاگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش

ہوائے پر فشانی برق خرمن ہائے خاطر ہےببال شعلۂ بیتاب ہے پروانہ زار آتش

نہیں برق و شرر جز وحشت ضبط تپیدن ہابلا گردان بے پروا خرامی ہائے یار آتش

دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدااسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش

— مرزا غالب