10 اشعار

نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں

Naala juz husn-e-talab ai sitam-iijaad nahī.n

نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں

«نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیںہے تقاضائے جفا شکوۂ بیداد نہیں

عشق و مزدوری عشرت گہ خسرو کیا خوبہم کو تسلیم نکو نامی فرہاد نہیں

کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلومدشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں

اہل بینش کو ہے طوفان حوادث مکتبلطمۂ موج کم از سیلئ استاد نہیں

وائے محرومی تسلیم و بدا حال وفاجانتا ہے کہ ہمیں طاقت فریاد نہیں

رنگ تمکین گل و لالہ پریشاں کیوں ہےگر چراغان سر رہ گزر باد نہیں

سبد گل کے تلے بند کرے ہے گلچیںمژدہ اے مرغ کہ گلزار میں صیاد نہیں

نفی سے کرتی ہے اثبات تراوش گویادی ہے جائے دہن اس کو دم ایجاد نہیں

کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشتیہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں

کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔتم کو بے مہری یاران وطن یاد نہیں

— مرزا غالب