9 اشعار

نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ

Nafas na anjuman-e-aarzuu se baahar khe.nch

نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ

«نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچاگر شراب نہیں انتظار ساغر کھینچ

کمال گرمی سعیٔ تلاش دید نہ پوچھبرنگ خار مرے آئنہ سے جوہر کھینچ

تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دلکیا ہے کس نے اشارا کہ ناز بستر کھینچ

تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگسبہ کوری دل و چشم رقیب ساغر کھینچ

بہ نیم غمزہ ادا کر حق ودیعت نازنیام پردۂ زخم جگر سے خنجر کھینچ

مرے قدح میں ہے صہبائے آتش پنہاںبروئے سفرہ کباب دل سمندر کھینچ

نہ کہہ کہ طاقت رسوائی وصال نہیںاگر یہی عرق فتنہ ہے مکرر کھینچ

جنون آئنہ مشتاق یک تماشا ہےہمارے صفحے پہ بال پری سے مسطر کھینچ

خمار منت ساقی اگر یہی ہے اسدؔدل گداختہ کے میکدے میں ساغر کھینچ

— مرزا غالب