13 اشعار

نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں

Nahī.n hai zakhm ko.ii bakhiye ke dar-khur mere tan me.n

نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں

«نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میںہوا ہے تار اشک یاس رشتہ چشم سوزن میں

ہوئی ہے مانع ذوق تماشا خانہ ویرانیکف سیلاب باقی ہے بہ رنگ پنبہ روزن میں

ودیعت خانۂ بیداد کاوش‌ ہاۓ مژگاں ہوںنگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں

بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کیشب مہ ہو جو رکھ دوں پنبہ دیواروں کے روزن میں

نکوہش مانع بے ربطی شور جنوں آئیہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیب و دامن میں

ہوئے اس مہروش کے جلوۂ تمثال کے آگےپرافشاں جوہر آئینے میں مثل ذرہ روزن میں

نہ جانوں نیک ہوں یا بد ہوں پر صحبت مخالف ہےجو گل ہوں تو ہوں گلخن میں جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں

ہزاروں دل دیے جوش جنون عشق نے مجھ کوسیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں

اسدؔ زندانی تاثیر الفت ‌ہاۓ خوباں ہوںخم دست نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں

فزوں کی دوستوں نے حرص قاتل ذوق کشتن میںہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم جوہر تیغ دشمن میں

تماشا کردنی ہے لطف زخم انتظار اے دلسویدا داغ مرہم مردمک ہے چشم سوزن میں

دل و دین و خرد تاراج ناز جلوہ پیرائیہوا ہے جوہر آئینہ خیل مور خرمن میں

نکوہش مانع دیوانگی ہائے جنوں آئیلگایا خندۂ ناصح نے بخیہ جیب و دامن میں

— مرزا غالب