10 اشعار

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

Naqsh-e-faryaadī hai kis kī shokhii-e-tahriir ka

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

«نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھصبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیےسینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائےمدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پاموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھموئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا

شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہےدام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا

لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتلنعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا

خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداعپر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا

وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔجو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا

— مرزا غالب