14 اشعار

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے

Naveed-e-amn hai bīdaad-e-dost-e-jaa.n ke liye

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے

«نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 35 سیکنڈ ہے۔

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیےرہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے

بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہےرکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے

وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضرنہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے

رہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشکبلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے

فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیںدراز دستی قاتل کے امتحاں کے لیے

مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیرکرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئیاٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے

بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزلکچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگےبنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے

زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیاکہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے

نصیر دولت و دیں اور معین ملت و ملکبنا ہے چرخ بریں جس کے آستاں کے لیے

زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرایشبنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہےسفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے

ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سراصلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

— مرزا غالب