9 اشعار

نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی

Nikoohish hai sazaa fariyaadī-e-be-daad-e-dilbar kī

نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی

«نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کیمبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی

رگ لیلیٰ کو خاک دشت مجنوں ریشگی بخشےاگر بووے بجاۓ دانہ دہقاں نوک نشتر کی

پر پروانہ شاید بادبان کشتی مے تھاہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دور ساغر کی

کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرتکہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی

کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہےمری قسمت میں یارب کیا نہ تھی دیوار پتھر کی

بجز دیوانگی ہوتا نہ انجام خود آرائیاگر پیدا نہ کرتا آئنہ زنجیر جوہر کی

غرور لطف ساقی نشۂ بیباکی مستاںنم دامان عصیاں ہے طراوت موج کوثر کی

مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس شایدیہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی

اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھاڈبوتا چشمۂ حیواں میں گر کشتی سکندر کی

— مرزا غالب