9 اشعار

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

Nukta-chī.n hai gham-e-dil us ko sunaaye na bane

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

«نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنےکیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دلاس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے

کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائےکاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے

غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگرکوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے

اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیاہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے

کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہےپردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے

موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہےتم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے

بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھےکام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔکہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

— مرزا غالب