15 اشعار

پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا

Pa-e-nazr-e-karam tohfa hai sharm-e-naa-rasaa.ii ka

پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا

«پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کابہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا

نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کابہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا

زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آساچراغ خانۂ درویش ہو کاسہ گدائی کا

نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پررہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا

تمناۓ زباں محو سپاس بے زبانی ہےمٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا

وہی اک بات ہے جو یاں نفس واں نکہت گل ہےچمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا

دہان ہر بت پیغارہ جو زنجیر رسوائیعدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا

نہ دے نالے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دےکہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا

جہاں مٹ جائے سعیٔ دید خضر آباد آسائشبہ جیب ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا

بہ عجز آباد وہم مدعا تسلیم شوخی ہےتغافل کو نہ کر مصروف تمکیں آزمائی کا

اسدؔ کا قصہ طولانی ہے لیکن مختصر یہ ہےکہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا

ہوس گستاخیٔ آئینہ تکلیف نظر بازیبہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا

نظر بازی طلسم وحشت آباد پرستاں ہےرہا بیگانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا

نہ پایا دردمند دوریٔ یاران یک دل نےسواد خط پیشانی سے نسخہ مومیائی کا

اسدؔ یہ عجز و بے سامانیٔ فرعون توام ہےجسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا

— مرزا غالب