12 اشعار

پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد

Paa ba-daaman ho rahaa huu.n bas-ke mai.n sahraa-navard

پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد

«پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 46 سیکنڈ ہے۔

پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نوردخار پا ہیں جوہر آئینۂ زانو مجھے

دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقتہے نگاہ آشنا تیرا سر ہر مو مجھے

ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے

باعث واماندگی ہے عمر فرصت جو مجھےکر دیا ہے پا بہ زنجیر رم آہو مجھے

خاک فرصت برسر ذوق فنا اے انتظارہے غبار شیشۂ ساعت رم آہو مجھے

ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھےمردمک ہے طوطیٔ آئینۂ زانو مجھے

یاد مژگاں میں بہ نشتر زار سودائے خیالچاہیے وقت تپش یک دست صد پہلو مجھے

اضطراب عمر بے مطلب نہیں آخر کہ ہےجستجوئے فرصت ربط سر زانو مجھے

چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سےمرم زنگار ہے وہ وسمۂ ابرو مجھے

کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغخوب رویوں نے بنایا غالبؔ بد خو مجھے

فرصت آرام غش ہستی ہے بحران عدمہے شکست رنگ امکاں گردش پہلو مجھے

ساز ایمائے فنا ہے عالم پیری اسدؔقامت خم سے ہے حاصل شوخیٔ ابرو مجھے

— مرزا غالب