12 اشعار

پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب

Phir hu.aa waqt ki ho baal-kushaa mauj-e-sharaab

پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب

«پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

پھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شرابدے بط مے کو دل و دست شنا موج شراب

پوچھ مت وجہ سیہ مستیٔ ارباب چمنسایۂ تاک میں ہوتی ہے ہوا موج شراب

جو ہوا غرقۂ مے بخت رسا رکھتا ہےسر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب

ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگرموج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب

چار موج اٹھتی ہے طوفان طرب سے ہر سوموج گل موج شفق موج صبا موج شراب

جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ نازدے ہے تسکیں بہ دم آب بقا موج شراب

بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کرشہپر رنگ سے ہے بال کشا موج شراب

موجۂ گل سے چراغاں ہے گزر گاہ خیالہے تصور میں ز بس جلوہ نما موج شراب

نشہ کے پردے میں ہے محو تماشائے دماغبسکہ رکھتی ہے سر نشو و نما موج شراب

ایک عالم پہ ہیں طوفانی کیفیت فصلموجۂ سبزۂ نو خیز سے تا موج شراب

شرح ہنگامۂ ہستی ہے زہے موسم گلرہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موج شراب

ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ گل دیکھ اسدؔپھر ہوا وقت کہ ہو بال کشا موج شراب

— مرزا غالب