14 اشعار

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

Phir kuchh ik dil ko be-qaraarī hai

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

«پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہےسینہ جویائے زخم کاری ہے

پھر جگر کھودنے لگا ناخنآمد فصل لالہ کاری ہے

قبلۂ مقصد نگاہ نیازپھر وہی پردۂ عماری ہے

چشم دلال جنس رسوائیدل خریدار ذوق خواری ہے

وہی صد رنگ نالہ فرسائیوہی صد گونہ اشک باری ہے

دل ہوائے خرام ناز سے پھرمحشرستان بیقراری ہے

جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہےروز بازار جاں سپاری ہے

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہے

پھر کھلا ہے در عدالت نازگرم بازار فوجداری ہے

ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سرشتہ داری ہے

پھر دیا پارۂ جگر نے سوالایک فریاد و آہ و زاری ہے

پھر ہوئے ہیں گواہ عشق طلباشک باری کا حکم جاری ہے

دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھاآج پھر اس کی روبکاری ہے

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

— مرزا غالب