11 اشعار

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

Phir mujhe dīda-e-tar yaad aayaa

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

«پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل جگر تشنۂ فریاد آیا

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوزپھر ترا وقت سفر یاد آیا

سادگی ہائے تمنا یعنیپھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا

عذر واماندگی اے حسرت دلنالہ کرتا تھا جگر یاد آیا

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتیکیوں ترا راہ گزر یاد آیا

کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگیگھر ترا خلد میں گر یاد آیا

آہ وہ جرأت فریاد کہاںدل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا

پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیالدل گم گشتہ مگر یاد آیا

کوئی ویرانی سی ویرانی ہےدشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔسنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیاعین جنت میں سقر یاد آیا

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں