وہ فراق اور وہ وصال کہاں
کلام: مرزا غالب
وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
فرصت کاروبار شوق کسےذوق نظارۂ جمال کہاں
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
فرصت کاروبار شوق کسےذوق نظارۂ جمال کہاں
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل جگر تشنۂ فریاد آیا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوزپھر ترا وقت سفر یاد آیا