9 اشعار

رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے

Raftaar-e-umr qata-e-rah-e-iztiraab hai

رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے

«رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہےاس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے

مینائے مے ہے سرو نشاط بہار سےبال تدرو جلوۂ موج شراب ہے

زخمی ہوا ہے پاشنہ پاۓ ثبات کانے بھاگنے کی گوں نہ اقامت کی تاب ہے

جاداد بادہ نوشی رنداں ہے شش جہتغافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے

نظارہ کیا حریف ہو اس برق حسن کاجوش بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے

میں نا مراد دل کی تسلی کو کیا کروںمانا کہ تیرے رخ سے نگہ کامیاب ہے

گزرا اسدؔ مسرت پیغام یار سےقاصد پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے

ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرضجو دانہ دام میں ہے سو اشک کباب ہے

بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زاریعنی یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے

— مرزا غالب