3 اشعار

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

Rahiye ab aisi jagah chal kar jahan koi na ho

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

«رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 26 سیکنڈ ہے۔

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہوہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیےکوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمارداراور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

— مرزا غالب